WI Tour Successful But

WI VS PAK

ون ڈے سیریز تین۔ایک سے جیتنے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دونوں میچوں میں بھی عالمی چمپئن ویسٹ انڈیز کو شکست سے ہم کنار کیا۔ دورے کا آغاز کئی خدشات کے ساتھ ہوا ۔ اگرچہ بیٹسمین کسی ہنگامہ خیز کارکردگی کا مظاہرہ تو نہ کر پائے لیکن مصباح الحق بیٹنگ میں بحران کے وقت آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور ٹیم کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مصباح صحیح معنوں میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹنگ میں ایک بڑا فرق ثابت ہوئے۔ شاہد آفریدی بھی چار سو چھکی لگا کر ریکارڈ قائم کر گئے۔ عمر اکمل نے بھی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کی دوہری ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں۔ باؤلرز نے بھی اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے دونوں طرز کی سیریز میں پاکستان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ اس سیریز کی واحد سنچری سیموئیل نے اسکور کی۔ویسٹ انڈیز کے ٹیل اینڈرز نے پاکستان کی باؤلنگ لائن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور تیسرا ون ڈے ٹائی کیا۔ٹی ٹوینٹی میں ذوالفقار بابر نے اپنے ڈیبیو پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں طرز کی سیریز کے نتائج پاکستان کے حق میں گئے۔ یقینا مصباح اور حفیظ اس کامیابی پر پھولے نہیں سمائیں گے ۔دونوں کی ٹیم میں جگہ اور کپتانیاں بچ گئیں لیکن ٹیم پردورے سے قبل اٹھائے جانے والے سوالات اپنی جگہ قائم و دائم ہیں ۔ اگر چہ اس دورے میں ٹیم کی کارکردگی مجموعی طور پر مثبت رہی لیکن اسی سیریز میں میچ فکسنگ کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے تیسرے ون ڈے میں میچ فکسنگ کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اس کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں جس میں مبینہ طور پر عمر اکمل اور وہاب ریاض سے پوچھ گچھ کی جائے گی جن پر ماضی میں بھی مظہر مجیدسے روابط کے الزامات رہے۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں پر بھی سلو بیٹنگ کے باعث شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان الزامات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن پی سی بی کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہونگی اور اس سنگین الزام کا دفاع پوری اہلیت کے ساتھ کرنا ہوگا۔ -

See more at: http://blog.jang.com.pk/blog_details.asp?id=8811#sthash.jfS0YUly.ZeHBizZh.dpuf

0 comments:

Post a Comment